4 ستمبر 2012 - 19:30

امريکي وزير خارجہ ہليري کلنٹن نے ايسي حالت ميں چين کا دورہ کيا ہے کہ چين امريکا کشيدگي شديد تر ہوگئي ہے -

ابنا: امريکي وزير خارجہ ہيلري کلنٹن نے  ايشيا اور بحرالکاہل  کے ملکوں کا دورہ جاري رکھتے ہوئے  پانچ  ستمبر کو بيجنگ ميں چين کے صدر سے ملاقات اور گفتگو کي ہے-
انہوں نے اس سے قبل اپنے چيني ہم منصب يانگ جئےچي سے بھي ملاقات اور واشنگٹن بيجنگ اقتصادي اور  اسٹريٹيجک مذاکرات کے چوتھے دور ميں شرکت کي تھي-
  چين اور امريکہ  دنيا ميں ايک دوسرے کے سب سے بڑے تجارتي حليف سمجھے جاتے ہيں اور دونوں ملکوں کے درميان چارسو ارب ڈالر کا تجارتي حجم اور چين کي جانب سے تيرہ  سو ارب ڈالر کے امريکي کريڈٹ بانڈز کي خرايداري  ان دونوں عالمي طاقتوں کے درميان معاشي تعلقات کي قربت کو ظاہر کرتي ہے ليکن اقتصادي تعاون کے پس پردہ ايک ايسي کشمکش بھي جاري ہے جو سياسي ماہرين کے مطابق  مستقبل ميں  خطرناک شکل اختيار کرسکتي ہے-
      ايشيا اور بحرالکاہل کے خطے ميں ترقي اور اقتصادي شرح نمو دنيا کے ديگر علاقوں کي نسبت کہيں زيادہ ہے  لہذا حکومت امريکہ خطے ميں چين کے راستے ميں  مشکلات کھڑي کرکے  اس کي اقتصادي ترقي کي رفتار کو کم کر نے کي کوشش کر رہي ہے-
     انڈونيشيا ميں امريکي  وزير خارجہ کا مداخلت پسندانہ بيان کہ جس ميں انہوں نے جنوبي چين کي سمندري حدود ميں واقع جزيروں کے بارے ميں مشترکہ اسٹريٹيجي اپنائے جانے کي بات کہي ہے  خطے ميں امريکي عزائم کو واضح کرتا ہے-
البتہ ہيلري کلنٹن نے اسي پر اکتفا نہيں کيا بلکہ ايک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے ستمبر کے اختتام  تک  متنازعہ جزائر کے بارے ميں کسي اتفاق کے رائے حصول پر بھي زور ديا ہے  - انہوں نے کہا کہ وہ چيني حکام کے ساتھ ملاقاتوں ميں اس بات پر زور ديں گي کہ وہ اپني سفارت کاري کو اصل راستے پر واپس لائيں اور ديگر ملکوں کے ساتھ اپني ارضي تنازعات کو حل کريں-
امريکي وزير خارجہ کے بيانات پر حکومت چين نے شديد ردعمل ظاہر کيا ہے اور چيني وزارت خارجہ کے ترجمان نے امريکہ کو متنبہ کيا ہے کہ وہ خطے کے ارضي تنازعات ميں مداخلت سے گريز کرے- چين نے امريکہ کو يہ بھي مشورہ ديا ہے کہ  وہ چين کي سمندري حدود کا احترام کرے اور خطے کے امن استحکام ميں  اس کے ساتھ تعاون کرے -
  ا مريکا در حقيقت چين کے اطراف ميں بدامني کي آڑ ميں  اور ساتھ  ہي چين کے خلاف ميزائيل اور فوجي خطرات ميں اضافہ کرکے اس کي معيشت کو فوجي اخراجات  کي جانب لے جانے کي کوشش کر رہا ہے اور اسلحے  کي دوڑ ميں گھسيٹ کر  چين کو اندر سے کھوکھلا  کرنا چاہتا ہے-

.......

/169